Listen live majlis broadcast on iPhone, Blackberry and Android mobile device

In addition to Listening live majlis broadcast from website, You can now Listen majlis broadcast from your  iPhone, Blackberry or Android mobile device.

Majalis typically take place during weekdays at following timings - Pakistan Local Time (GMT +5)

  • 10:00 AM
  • 6:00 PM

You can always check updated timings from website’s homepage. To listen majlis broadcast, visit our website at http://www.khanqah.org and click on the ‘Listen Majalis (Web)’ or Mobile Player link.

Please let us know your feedback about the service at our contact page.

Please spread the word across your social network about the new service.

NOTE: Please note that, this facility is primary for those who are far away (abroad) or cannot visit khanqah due to some legitimate reason. For those who can visit khanqah or live in same city (karachi) are advised to attend majlis physically present, as benefit of physical presence is much much more than listening live broadcast. Khanqah address / location is mentioned here.

Tags: , ,

An important passage from the Book - Tohfa Mah e Ramzan by Shaikh ul Arab wal Ajam, Arif Billah Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (db).

There are 2 major spiritual diseases which restrict us from the Blessings of Ramazan

1. Evil Glances (Badnazri)
2. Backbiting (Gheebat)

May Allah Ta’ala save whole muslim nation from all such diseases.

Read Book / Download Book

Do read complete passage @ Tuhfa Mah e Ramazan

Do read complete passage @ Tuhfa Mah e Ramazan

For all concerned, forward this message to your social circle.

2 New German Books

Book Reviews August 4th, 2010

Few more book in German language by Shaikh ul arab wal Ajam, Arif billah Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (db) are added in website’s german books section.

1. Vierzehn Nachteile, wenn man seinen Blick nicht schützt

This book is german translation of english book, The 14 Harms Of Casting Evil Glances

2. Ethnische und sprachliche Vorbehalte aus islamischer Sicht

This book is german translation of english book, The Remedy to the Evil Disease of Racism And Prejudice

The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Rajab 1431 / July 2010 is published on website.

You can read it from this link.

alabrar-oct09

ماہنامہ الابرار - شمارہ: رجب ۱۴۳۱ بمطابق جولائی ۲۰۱۰ کا شمارہ ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے۔
سرپرست: حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان

محراب و منبر - قرآن پاک کی نظر میں بےوقوف کون ہیں؟

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ابھی آپ کو سنائے جائیں گے لیکن اس سے پہلے ایک سنت کی تعلیم دیتا ہوں۔ جب چراغ بجھ جاتا تھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، کانٹا چبھ جائے، جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے یا چراغ بجھ جائے ان سب مواقع پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اِنَّا لِلہِ پڑھنا ثابت ہے۔ علامہ آلوسی السید محمود بغدادی نے اپنی کتاب تفسیر روح المعانی میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے:کْلّْ مَا یُؤذِی المْومِنَ فَھْوَ مْصِیبَۃٌ لَہ وَ اَجرہروہ چیز جس سے مومن کو تکلیف پہنچے مصیبت ہے اور اس پر مومن کے لیے اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ پڑھ لے۔ آج کل تو لوگ موت ہی پر اِنَّا لِلہِ پڑھتے ہیں، اگر کسی اور موقع پر کسی نے اِنَّا لِلہِ پڑھ لیا تو سب گھبرا جاتے ہیں کہ بھئی کس کا انتقال ہوگیا حالانکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ جو بات مومن کو تکلیف دے وہ مصیبت ہے اور اس پر اِنَّا لِلہِ پڑھنا سنت ہے۔

سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان مواقع پر اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، عِندَ انطِفَاء ِ السِّرَاجِ، انطفاء بجھنے کو کہتے ہیں یعنی چراغ کے بجھنے پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، وَ عِنْدَ لَسعِ البَعْوضَۃِ جب مچھر کاٹتا تھا تو اس وقت بھی اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، عِندَ انقِطَاعِ الشَّسَعِ جوتے کا تسمہ ٹوٹنے پر اِنَّالِلہِ پڑھتے تھے، اسی طریقے سے عِندَ لَدغِ الشَّوکَۃِ کانٹا چبھ جانے پر بھی آپ اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے۔ غرض آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھوٹی چھوٹی تکلیف پر اِنَّا لِلہِ پڑھا ہے۔

چونکہ میں نے یہ حدیث سنی ہوئی تھی لہٰذا جب ہمارے یہاں بجلی فیل ہوتی ہے تو میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی سنت ادا کرتا ہوں، بجلی فیل ہونے سے گھر میں جو اندھیرا ہوتا ہے اس اندھیرے میں یہ سنت ادا کرنے سے اس سنت کا نور ہمارے دل میں غالب ہوجاتا ہے اور دل میں ایک ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے اور جو اس سنت پر عمل نہیں کرتے جیسا میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ جب بجلی فیل ہوئی تو کے ای ایس سی والوں کو گندی گندی گالیاں دیتے ہیں۔ اب فرق دیکھئے! کچھ لوگ کے ای ایس سی والوں کو گالیاں دے رہے ہیں اور کوئی سنت ادا کررہا ہے۔ تو تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ انسان میں کتنا فرق ہوجاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اس کا غم بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے، بجلی فیل ہونے سے غم ہوتا ہے، تکلیف ہوتی ہے مگر سنت کی اتباع کی برکت سے وہ تکلیف بھی لذیذہوجاتی ہے

آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ملا اْسے غمِ جاناں بنا دیا

…… مزید پڑھئے

The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Rabi us Sani 1431 / June 2010 is published on website.

You can read it from this link.

alabrar-oct09

ماہنامہ الابرار - شمارہ: جمادی الثانی ۱۴۳۱ بمطابق جون ۲۰۱۰ کا شمارہ ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے۔
سرپرست: حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان

بکھرتے موتی - ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

سنت کے مطابق شادی بیاہ اور ولیمہ

ارشاد فرمایا کہ آج جنگ اخبار میں مسائل دینیہ کے سلسلے میں مولانا یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ایک مسئلہ لکھا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کا برادری اور لڑکے والوں کو دعوت کھلانا خلافِ سنت ہے۔ میرے ذمے بیان ہے، تحقیق آپ مولانا یوسف لدھیانوی سے جاکر کیجیے، لیکن عقل سے سوچیے کہ جس کی بیٹی جارہی ہے اس کا دل تو غمگین ہے ایسے وقت اس سے دعوت کھانا عقل کے بھی خلاف ہے۔ ولیمہ سنت ہے جو بیٹے والے کے ذمہ ہے۔ ہاں لڑکی جب رخصت ہوکر چلی جائے اور شوہر کے ساتھ خلوت ہوجائے۔ اس کے بعد دوسرے دن ولیمہ سنتِ مؤکدہ ہے بشرطیکہ وہاں بھی کوئی خلافِ شریعت کام نہ ہو۔

علامہ شامی ابنِ عابدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ولیمہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر دسترخوان پر کوئی گناہ کا کام شروع ہوجائے مثلاً غیبت شروع ہوجائے تو روٹیاں اور بریانی اور شامی کباب چھوڑ کروہاں سے اُٹھ جانا واجب ہے۔ اب یہ وقت امتحان کا ہوتا ہے کہ یہ نلیاں اور بوٹیاں محبوب ہیں یا اللہ کی رضا محبوب ہے۔ یہ کہنا کہ جائیں صاحب چھوڑ کر میزبان ناراض ہوجائیں گے نہایت کم ہمتی کی بات ہے۔ صاف کہہ دو کہ یہاں غیبت ہورہی ہے، ریکارڈنگ ہورہی ہے، فوٹوکشی ہورہی ہے، فلم بن رہی ہے، ویڈیو بن رہی ہے، کھانے والوں کی تصویریں بن رہی ہیں لہٰذا اس نافرمانی کی مجلس میں شریک نہیں ہوسکتا۔

دوستو! یہی وقت امتحان کا ہوتا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا موقع آئے اس وقت جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جائے، وہ امتحان میں پاس ہوگیا۔ خالی تنہائی میں، مسجد میں عبادت کرلینے کا نام امتحان نہیں ہے۔ امتحان کا وقت وہ ہوتا ہے جب منہ اور بریانی کے لقمہ کے درمیان آدھے فٹ کا فاصلہ رہ گیا کہ دیکھا کہ فوٹوگرافر آگیا، فلم بننے والی ہے، اب دیکھنا ہے کہ آدھا فٹ جو بریانی قریب ہوچکی ہے اس قریب شدہ مالِ غنیمت کو واپس کرتا ہے یا نہیں۔ امتحان کا وقت یہ ہوتا ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ اس وقت اس لقمے کو وہیں رکھ دو اور اُٹھ جائو، کہہ دو چونکہ یہاں اللہ کی نافرمانی ہورہی ہے لہٰذا ایسی مجلس میں حاضری جائز نہیں ہے۔ محدث عظیم مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ جو مکہ شریف میں مدفون ہیں، مشکوٰۃ کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’لَایَجُوْزُ الْحُضُوْر عِنْدَ مَجْلِسٍ فِیْہِ الْمَحْظُوْر‘‘

مزید پڑھئے

morning_and_evening_duasIt has been narrated by Hazrat Abu Bark (radhiallaho anho) that Rasulullah (sallellaho alaihe wasallam) said:

“Ascribing partners to Allah in my Ummah is much more hidden that the pace of an ant crawling upon a black stone.”

(Kanzul Ummaal vol.2 pg.816)

Shirk is a very hidden thing. It enters the heart very silently and very few are saved from it. Upon hearing this, Hazrat Abu Bakr (radhiallaho anho) asked in a frightened manner, “How can one be saved from it?”

Rasulullah (sallellaho alaihe wasallam) said: “Should I not show you such a supplication (dua) that if yourecite it, you will be free from minor and major shirk.” Hazrat Abu Bakr (radhiallaho anho) begged him to tell him. Rasulullah (sallellaho alaihe wasallam) instructed him to say:

اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَعُوْذُبِكَ اَنْ اُشْرِكَ بِكَ وَاَنَاْ اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُكَ لِماَ لَا اَعْلَمُ

“O Allah, I seek protection in You from that I ascribe partners to You knowingly and I seek forgiveness from You for those things which I do not know.” (Kanzul Ummaal vol.2 pg.816)

[urdu version - more readable]

Commentary:

By continuously reciting this Dua, there is guarantee of , and glad tidings of sincerity.

Read more …

Morning and Evening Duas
By: Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (db)

See this link for Urdu Version

Tags: , ,

The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Jamadi ul Awal 1431 / April 2010 is published on website.

You can read it from this link.

alabrar-oct09

ماہنامہ الابرار - شمارہ: جمادی الاول ۱۴۳۱ بمطابق اپریل ۲۰۱۰ کا شمارہ ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے۔
سرپرست: حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان

ایمان اور عملِ صالح کا ربط - ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

ازروئے حدیثِ پاک گناہ کی دو علامات

تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مَنْ عَمِلَ صَالِحَاًً کی شرط لگائی ہے کہ نیک عمل کرے گا، صالح عمل کرے گا، اچھا عمل کیا ہے؟ جس سے ہم خوش ہوں اور بُرا عمل کیا ہے جس سے ہم ناراض ہوں، اس کے لیے آپ کو کنزالدقائق پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، یہی فارمولا اور تھرمامیٹررکھ لو جب کوئی عمل کرو تو اپنے دل سے پوچھ لو کہ یہ عمل اچھا ہے یا بُرا، اور یہ آپ کا دل بتادے گاکیونکہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کی دو دلیل اور دو علامات ارشاد فرمادیں:

{اَلْاِ ثُمْ مَاحَاکَ فِیْ صَدْرِک وَ کَرِہْتَ اَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ}

(صحیح مسلم، کتاب البرو الصلۃ والآذب، باب تفسیر البر والاثم)

(۱) اَلْاِ ثُمْ مَاحَاکَ فِیْ صَدْرِکگناہ کی حقیقت یہ ہے کہ تمہارے دل میں کھٹک پیدا ہو جائے، دل میں تردد پیدا ہوجائے کہ میں کیا کر رہا ہوں، کسی گناہ سے گنہگار خود بھی مطمٔن نہیں ہوتا۔ اسی لئے گناہ کرنے کے بعد وہ شرمندگی میں مبتلا ہوجاتا ہے، یہ شرمندہ ہونا دلیل ہے کہ ہم سے گناہ ہوگیا۔ کوئی آدمی نیک کام کرکے کبھی شرمندہ نہیں ہوتا، نماز پڑھ کے ، تلاوت کرکے، کسی اللہ والے سے ملاقات کرکے، عمرہ کرکے یا حج کرکے، کسی کو شرمندگی ہوتی ہے؟ تو شرمندگی کا ہونا اور دل میں کھٹک ہونا ایک علامت ہو گئی۔

(۲) اور دوسری علامت ہے وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ اور تم کو یہ بات ناگوار ہو کہ کوئی تمہارے گناہ کو نہ جان لے، اب ہر طرف دیکھ رہاہے کہ کوئی دیکھ نہ لے کوئی جان جائے اور کسی کے دیکھنے سے اپنے گناہ کو کیوں چھپا رہا ہے؟تاکہ وہ جان نہ جائے کہ صورت ہم چنیں اور ہم چناں۔تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے گناہ کی دو علامات بتادیں۔ گناہ کا جو کام بھی کرے گا ان دو علامات سے اس کا خروج نہیں ہوگا، گناہ کے لیے یہ دو علامات لازمی ہیں چاہے صورت بگاڑو چاہے سیرت۔

مزید پڑھئے


The Destructive Consequences Of Not Observing PurdahO how sorrowful! The thing which has been accorded respect by Allâh Ta’ala and Rasulullah (salellaho alaihe wasallam) is considered to be disgraceful by the Muslims of today. Tell me, where does the respect and of a woman lie? Is it in or moving about naked? Does a noble and modest woman want strange men to cast evil glances at her hair and cheeks, and whistle at her?

Real respect lies in a woman offering salâh, keeping fast, serving her husband, bringing up her children, and wearing a ‘ when going out of the house. But today, the husband considers it respectful to walk around in the shopping centres with his fashionable wife. He feels embarrassed when his wife wears a ‘. What respect is there in others looking at your wife? There is a limit to shamelessness and absence of self-respect. When a person disobeys Allâh Ta’ala, his intellect is also tormented. He thus considers good things to be bad. Allâh Ta’ala refers to this as follows:

أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوْءُ عَمَلِهِ فَرَاٰهُ حَسَنًا

(سورة فاطر، آية: 8)

Is he to whom the evil of his deeds is made fair-seeming, so that he considers it as good… (Sûrah Fâtir, 35: 8)

In other words, Satan beautifies evil and makes it appealing. Consequently, people start considering evils to be good. For example, women consider non- to be good. As for the women who are pious, who adopt , wear the ‘, fear Allâh, perform salâh, and keep fast, it is our duty to respect them and we ask them to supplicate for us. As for the women who walk about without , who display their hair and cheeks, and thereby steal the îmân of the men, we will never respect such women. This is the theme of most of our talks: the hair and cheeks of women who are not in must not destroy the îmân of our young boys.

Do read more @ The Destructive Consequences Of Not Observing Purdah

Forward to your friends.

Tags: , ,

The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Rabi Awal 1431 / March 2010 is published on website.

You can read it from this link.

alabrar-oct09

ماہنامہ الابرار - شمارہ: ربیع الاول ۱۴۳۱ بمطابق مارچ ۲۰۱۰ کا شمارہ ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے۔
سرپرست: حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان

محراب و منبر - عظمتِ صحابہؓ

اﷲ کیسے ملتا ہے؟

شاہ عبد الغنی صاحب رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مٹھائی ملتی ہے مٹھائی والوں سے، کپڑا ملتا ہے کپڑے والوں سے، امرود ملتا ہے امرود والوں سے، آم ملتا ہے آم والوں سے۔ آپ کسی کپڑے والے سے جاکر کہو کہ ایک کلو مٹھائی د ے دو تو وہ کیا کہے گا؟ دماغ کے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوجائیے، ڈاکٹر سے دماغ کا علاج کرائیے، آپ کپڑے کی دکان پر مٹھائی لینے آئے ہیں؟ اور اگر مٹھائی کی دکان پر جا کر کہو کہ پانچ گز کپڑا دے دو تو وہ بھی یہی کہے گا کہ ہاں جناب آپ بھی اسی (Category) کے آدمی ہیں، آپ بھی جائیے دماغ کے ہسپتال میں۔

تو شاہ عبد الغنی صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ آم، آم والوں سے، امرود، امرود والوںسے، کباب، کباب والوں سے، مٹھائی، مٹھائی والوں سے اور کپڑا کپڑے والوں سے ملتا ہے تو اللہ بھی اللہ والوں سے ملتا ہے۔ دنیامیں کوئی ولی اللہ ایسا نہیں گذرا جس نے کسی اللہ والے کی صحبت نہ اُٹھائی ہو۔

جیسے دیسی آم لنگڑے آم کی پیوند کے بغیر لنگڑا آم نہیں بن سکتا، آپ دیسی آم کو لنگڑے آم سے متعلق ایک لاکھ کتابیں مع سند اور مصنفین کے نام کے ساتھ یاد کرادیںبلکہ سوانح مصنفین کا بھی حافظ بھی بنا دیں لیکن جب تک اسے لنگڑے آم کی قلم نہیں لگے گی اُس وقت تک دیسی آم لنگڑا آم نہیں بنے گا۔ میرے شیخ شاہ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم نے جب میری اس مثال کو سنا تو ہنس کر فرمایا کہ دیسی آم لنگڑے آم کی صحبت اور قلم سے لنگڑا آم ہوتا ہے لیکن دیسی دل، غفلت کا مارا دل، حُبِّ جاہ اور دنیا کے مال کا مارا ہوا دل جب اللہ والوں کے دل سے پیوند کھاتا ہے تو لنگڑا دل نہیں بنتا، تگڑا دل بن جاتا ہے اور اس کے پاس جتنے بگڑے دل رہتے ہیں وہ بھی تگڑے دل بن جاتے ہیں۔

حضرت نے کیا عمدہ بات فرمائی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھیں کہ ہم اللہ والوں کے دل سے اپنا دل پیوند کریں گے تو کہیں ہمارا دل لنگڑا نہ ہوجائے۔ واہ رے شیخ! اس کو شیخ کہتے ہیں، فرمایا کہ اللہ والوں کے دل سے جب تمہارا دل پیوند ہوگا تو تگڑا دل بنے گا اور اتنا تگڑا ہوگا کہ سارا معاشرہ، سارا زمانہ آپ کو مرعوب نہیں کرسکتا ان شاءاللہ تعالیٰ اور آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صاحب ہم زمانہ کے ہاتھوں مجبور ہوگئے تھے بلکہ اللہ والوں کی صحبت کے بعد وہ ایمان، وہ یقین عطاہوگا کہ آپ اہل ِ زمانہ سے ببانگِ دُہل یہ اعلان کریں گے

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

مزید پڑھئے

Alhamdulilah, Majalis (Bayanat) of Shaikh ul Arab wal Ajam Arif Billah Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (damat barkatuhum) are being conducted on daily basis, and many peoples within country and abroad are taking benefit.

Majlis Timings (Daily - 7 days a week)

Morning Majlis: 10am -> 11am
Isha Majlis: After Isha Namaz *

Monday Bayan: After Maghrib Namaz *
Juma Bayan: 1pm -> 2pm *

To attend Hazratwala’s majalis, visit:

Khanqah Imdadia Ashrafia,
ST-1/A, Block 2, Gulshan-e-Iqbal, Karachi (Map)
(behind M.Rab Hospital)

Phone: +92.21.34981958


NOTE
: Special (Pardah) arrangement for women is available on Sunday Morning Bayan, Friday Bayan and Monday Bayan

* Namaz timings at Masjid e Ashraf can be confirmed from 021.34975658, 021.34975758, 021.34981958

The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Safar 1431 / Feb 2010 is published on website.

You can read it from this link.

alabrar-oct09

ماہنامہ الابرار - شمارہ: سفر ۱۴۳۱ بمطابق فروری ۲۰۱۰ کا شمارہ ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے۔
سرپرست: حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان

محراب و منبر - حقانیتِ اسلام

نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

آپ خود بتائیں کہ جوان لڑکی کو پردے کی ضرورت ہے یا بڑھیا کھوسٹ کو جس کے گیارہ نمبر کا چشمہ لگا ہوا ہے، گال پچکے ہوئے ہیں، منہ میں دانت بھی نہیں ہیں، اس کو کون دیکھے گا؟ جس کو کوئی نہ دیکھے وہ تو پردے میں ہے اور جس کوسب دیکھیں وہ بے پردہ ہے، کیا حماقت کی بات ہے۔ بتائیے! جس کی جیب میں ایک پیسہ نہیں ہے وہ تو زپ (Zip)لگائے ہوئے ہے اور جیب پر ہاتھ بھی رکھے ہوئے ہے اور جس کی جیب میں نوٹوں کی گڈیاں ہیں وہ ململ کے باریک کرتے کی جیب سے اپنے نوٹوں کی نمائش کررہا ہے کہ اے جیب کترو! اے ڈاکوو! دیکھ لو یہ ہے مال۔

میرے شیخ ومرشد مولانا شاہ ابرار الحق صاحب فرماتے ہیں کہ تم آدھا کلو گوشت لے کر چلتے ہو تو تھیلے میں اندر رکھتے ہو تاکہ چیل اس کو اُڑا نہ لے جائے، گھر میں آدھا کلو دودھ رکھتے ہو تو ڈھک کے رکھتے ہو کہ بلی نہ پی جائے اور روٹیاں رکھتے ہو تو ڈھک کے رکھتے ہو کہ چوہے نہ کتر لیں۔ تو چوہوں سے روٹیوں کی حفاظت ضروری، بلی سے دودھ کی حفاظت ضروری، چیلوں سے گوشت کی حفاظت ضروری اور جیب کتروں سے نوٹوں کی حفاظت ضروری ہے تو کیا جوان بیٹیوں اور جوان بہووں کی حفاظت ضروری نہیں ہے؟

جو شخص اﷲ سے جتنا دور ہوگا اتنا ہی عقل سے محروم ہوگا کیونکہ عقل کا خالق اﷲ ہے جو اس مالک کو راضی کو رکھتا ہے تو اس کے دماغ میں جو عقل ہے اس کا کنکشن اور رابطہ خالقِ عقل سے رہتا ہے اور جو خدا کو بھولے ہوئے ہیں ان کی کھوپڑی عقل سے محروم ہے۔ لہٰذا دیکھ لو جتنی بڈھیاں ہیں وہ خود تو برقع میں ہیں اور اپنی جوان بیٹیوں کی نمائش کر تی ہوئی لے جارہی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ مشکوٰة شریف کی حدیث ہے، سرو رِ عالم صلی ا ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو لڑکیاں اور عورتیں بے پردہ نکلتی ہیں ان پر بھی اﷲ کی لعنت ہے:

لَعَنَ اﷲُ النَّاظِرَ وَالمَنظُورَ اِلَیہِ (مشکوٰة المصابیح، کتاب النکاح)

اﷲ لعنت کرے اس پر جو (حرام کو مثلاً نامحرم لڑکی یا امرد کو ) دیکھتا ہے اور جو اپنے کو دِکھاتا ہے یا دِکھاتی ہے یعنی منظور اور منظورات دونوں پر لعنت برستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو تو مار رہا ہے اوردوسری عورتوں سے دل لگا رہا ہے۔

یاد رکھو! اﷲکی نافرمانی کے ساتھ چین کا تصور کرنے والا بین الاقوامی گدھا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:

وَمَن اَعرَضَ عَن ذِکرِی فِاِنَّ لَہ مَعِیشَةً ضَنکاً (سورة طٰہ،آیت: ۴۲۱)

جو میری نافرمانی کرتا ہے اس کی زندگی تلخ کردی جاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس حقیقت پر ایمان لانے کی توفیق دے اور مالک کو ناراض کر کے حرام لذتوں کی چوریوں اور کمینے پن سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

مزید پڑھئے