Launching of Live Majlis Broadcast on iPhone, Blackberry and Android devices
Site Updates, Technical August 19th, 2010
In addition to Listening live majlis broadcast from website, You can now Listen majlis broadcast from your iPhone, Blackberry or Android mobile device.
Majalis typically take place during weekdays at following timings - Pakistan Local Time (GMT +5)
- 10:00 AM
- 6:00 PM
You can always check updated timings from website’s homepage. To listen majlis broadcast, visit our website at http://www.khanqah.org and click on the ‘Listen Majalis (Web)’ or Mobile Player link.
Please let us know your feedback about the service at our contact page.
Please spread the word across your social network about the new service.
NOTE: Please note that, this facility is primary for those who are far away (abroad) or cannot visit khanqah due to some legitimate reason. For those who can visit khanqah or live in same city (karachi) are advised to attend majlis physically present, as benefit of physical presence is much much more than listening live broadcast. Khanqah address / location is mentioned here.
Tags: Live Majlis on Android, Live Majlis on Blackberry, Live Majlis on iPhone
The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Rajab 1431 / July 2010 is published on website.
You can read it from this link.
محراب و منبر - قرآن پاک کی نظر میں بےوقوف کون ہیں؟
سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان مواقع پر اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، عِندَ انطِفَاء ِ السِّرَاجِ، انطفاء بجھنے کو کہتے ہیں یعنی چراغ کے بجھنے پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، وَ عِنْدَ لَسعِ البَعْوضَۃِ جب مچھر کاٹتا تھا تو اس وقت بھی اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، عِندَ انقِطَاعِ الشَّسَعِ جوتے کا تسمہ ٹوٹنے پر اِنَّالِلہِ پڑھتے تھے، اسی طریقے سے عِندَ لَدغِ الشَّوکَۃِ کانٹا چبھ جانے پر بھی آپ اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے۔ غرض آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھوٹی چھوٹی تکلیف پر اِنَّا لِلہِ پڑھا ہے۔
چونکہ میں نے یہ حدیث سنی ہوئی تھی لہٰذا جب ہمارے یہاں بجلی فیل ہوتی ہے تو میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی سنت ادا کرتا ہوں، بجلی فیل ہونے سے گھر میں جو اندھیرا ہوتا ہے اس اندھیرے میں یہ سنت ادا کرنے سے اس سنت کا نور ہمارے دل میں غالب ہوجاتا ہے اور دل میں ایک ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے اور جو اس سنت پر عمل نہیں کرتے جیسا میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ جب بجلی فیل ہوئی تو کے ای ایس سی والوں کو گندی گندی گالیاں دیتے ہیں۔ اب فرق دیکھئے! کچھ لوگ کے ای ایس سی والوں کو گالیاں دے رہے ہیں اور کوئی سنت ادا کررہا ہے۔ تو تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ انسان میں کتنا فرق ہوجاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اس کا غم بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے، بجلی فیل ہونے سے غم ہوتا ہے، تکلیف ہوتی ہے مگر سنت کی اتباع کی برکت سے وہ تکلیف بھی لذیذہوجاتی ہے
آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ملا اْسے غمِ جاناں بنا دیا
…… مزید پڑھئے
Monthly Al-Abrar - سنت کے مطابق شادی بیاہ اور ولیمہ
Site Updates June 3rd, 2010
The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Rabi us Sani 1431 / June 2010 is published on website.
You can read it from this link.
بکھرتے موتی - ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
سنت کے مطابق شادی بیاہ اور ولیمہ
ارشاد فرمایا کہ آج جنگ اخبار میں مسائل دینیہ کے سلسلے میں مولانا یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ایک مسئلہ لکھا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کا برادری اور لڑکے والوں کو دعوت کھلانا خلافِ سنت ہے۔ میرے ذمے بیان ہے، تحقیق آپ مولانا یوسف لدھیانوی سے جاکر کیجیے، لیکن عقل سے سوچیے کہ جس کی بیٹی جارہی ہے اس کا دل تو غمگین ہے ایسے وقت اس سے دعوت کھانا عقل کے بھی خلاف ہے۔ ولیمہ سنت ہے جو بیٹے والے کے ذمہ ہے۔ ہاں لڑکی جب رخصت ہوکر چلی جائے اور شوہر کے ساتھ خلوت ہوجائے۔ اس کے بعد دوسرے دن ولیمہ سنتِ مؤکدہ ہے بشرطیکہ وہاں بھی کوئی خلافِ شریعت کام نہ ہو۔
علامہ شامی ابنِ عابدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ولیمہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر دسترخوان پر کوئی گناہ کا کام شروع ہوجائے مثلاً غیبت شروع ہوجائے تو روٹیاں اور بریانی اور شامی کباب چھوڑ کروہاں سے اُٹھ جانا واجب ہے۔ اب یہ وقت امتحان کا ہوتا ہے کہ یہ نلیاں اور بوٹیاں محبوب ہیں یا اللہ کی رضا محبوب ہے۔ یہ کہنا کہ جائیں صاحب چھوڑ کر میزبان ناراض ہوجائیں گے نہایت کم ہمتی کی بات ہے۔ صاف کہہ دو کہ یہاں غیبت ہورہی ہے، ریکارڈنگ ہورہی ہے، فوٹوکشی ہورہی ہے، فلم بن رہی ہے، ویڈیو بن رہی ہے، کھانے والوں کی تصویریں بن رہی ہیں لہٰذا اس نافرمانی کی مجلس میں شریک نہیں ہوسکتا۔
دوستو! یہی وقت امتحان کا ہوتا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا موقع آئے اس وقت جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جائے، وہ امتحان میں پاس ہوگیا۔ خالی تنہائی میں، مسجد میں عبادت کرلینے کا نام امتحان نہیں ہے۔ امتحان کا وقت وہ ہوتا ہے جب منہ اور بریانی کے لقمہ کے درمیان آدھے فٹ کا فاصلہ رہ گیا کہ دیکھا کہ فوٹوگرافر آگیا، فلم بننے والی ہے، اب دیکھنا ہے کہ آدھا فٹ جو بریانی قریب ہوچکی ہے اس قریب شدہ مالِ غنیمت کو واپس کرتا ہے یا نہیں۔ امتحان کا وقت یہ ہوتا ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ اس وقت اس لقمے کو وہیں رکھ دو اور اُٹھ جائو، کہہ دو چونکہ یہاں اللہ کی نافرمانی ہورہی ہے لہٰذا ایسی مجلس میں حاضری جائز نہیں ہے۔ محدث عظیم مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ جو مکہ شریف میں مدفون ہیں، مشکوٰۃ کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’لَایَجُوْزُ الْحُضُوْر عِنْدَ مَجْلِسٍ فِیْہِ الْمَحْظُوْر‘‘
Monthly Al-Abrar of Jamadi ul Awal 1431 / April 2010
Site Updates April 27th, 2010
The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Jamadi ul Awal 1431 / April 2010 is published on website.
You can read it from this link.
ایمان اور عملِ صالح کا ربط - ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
ازروئے حدیثِ پاک گناہ کی دو علامات
تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مَنْ عَمِلَ صَالِحَاًً کی شرط لگائی ہے کہ نیک عمل کرے گا، صالح عمل کرے گا، اچھا عمل کیا ہے؟ جس سے ہم خوش ہوں اور بُرا عمل کیا ہے جس سے ہم ناراض ہوں، اس کے لیے آپ کو کنزالدقائق پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، یہی فارمولا اور تھرمامیٹررکھ لو جب کوئی عمل کرو تو اپنے دل سے پوچھ لو کہ یہ عمل اچھا ہے یا بُرا، اور یہ آپ کا دل بتادے گاکیونکہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کی دو دلیل اور دو علامات ارشاد فرمادیں:
{اَلْاِ ثُمْ مَاحَاکَ فِیْ صَدْرِک وَ کَرِہْتَ اَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ}
(صحیح مسلم، کتاب البرو الصلۃ والآذب، باب تفسیر البر والاثم)
(۱) اَلْاِ ثُمْ مَاحَاکَ فِیْ صَدْرِکگناہ کی حقیقت یہ ہے کہ تمہارے دل میں کھٹک پیدا ہو جائے، دل میں تردد پیدا ہوجائے کہ میں کیا کر رہا ہوں، کسی گناہ سے گنہگار خود بھی مطمٔن نہیں ہوتا۔ اسی لئے گناہ کرنے کے بعد وہ شرمندگی میں مبتلا ہوجاتا ہے، یہ شرمندہ ہونا دلیل ہے کہ ہم سے گناہ ہوگیا۔ کوئی آدمی نیک کام کرکے کبھی شرمندہ نہیں ہوتا، نماز پڑھ کے ، تلاوت کرکے، کسی اللہ والے سے ملاقات کرکے، عمرہ کرکے یا حج کرکے، کسی کو شرمندگی ہوتی ہے؟ تو شرمندگی کا ہونا اور دل میں کھٹک ہونا ایک علامت ہو گئی۔
(۲) اور دوسری علامت ہے وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ اور تم کو یہ بات ناگوار ہو کہ کوئی تمہارے گناہ کو نہ جان لے، اب ہر طرف دیکھ رہاہے کہ کوئی دیکھ نہ لے کوئی جان جائے اور کسی کے دیکھنے سے اپنے گناہ کو کیوں چھپا رہا ہے؟تاکہ وہ جان نہ جائے کہ صورت ہم چنیں اور ہم چناں۔تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے گناہ کی دو علامات بتادیں۔ گناہ کا جو کام بھی کرے گا ان دو علامات سے اس کا خروج نہیں ہوگا، گناہ کے لیے یہ دو علامات لازمی ہیں چاہے صورت بگاڑو چاہے سیرت۔
The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Rabi Awal 1431 / March 2010 is published on website.
You can read it from this link.
اﷲ کیسے ملتا ہے؟
شاہ عبد الغنی صاحب رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مٹھائی ملتی ہے مٹھائی والوں سے، کپڑا ملتا ہے کپڑے والوں سے، امرود ملتا ہے امرود والوں سے، آم ملتا ہے آم والوں سے۔ آپ کسی کپڑے والے سے جاکر کہو کہ ایک کلو مٹھائی د ے دو تو وہ کیا کہے گا؟ دماغ کے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوجائیے، ڈاکٹر سے دماغ کا علاج کرائیے، آپ کپڑے کی دکان پر مٹھائی لینے آئے ہیں؟ اور اگر مٹھائی کی دکان پر جا کر کہو کہ پانچ گز کپڑا دے دو تو وہ بھی یہی کہے گا کہ ہاں جناب آپ بھی اسی (Category) کے آدمی ہیں، آپ بھی جائیے دماغ کے ہسپتال میں۔
تو شاہ عبد الغنی صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ آم، آم والوں سے، امرود، امرود والوںسے، کباب، کباب والوں سے، مٹھائی، مٹھائی والوں سے اور کپڑا کپڑے والوں سے ملتا ہے تو اللہ بھی اللہ والوں سے ملتا ہے۔ دنیامیں کوئی ولی اللہ ایسا نہیں گذرا جس نے کسی اللہ والے کی صحبت نہ اُٹھائی ہو۔
جیسے دیسی آم لنگڑے آم کی پیوند کے بغیر لنگڑا آم نہیں بن سکتا، آپ دیسی آم کو لنگڑے آم سے متعلق ایک لاکھ کتابیں مع سند اور مصنفین کے نام کے ساتھ یاد کرادیںبلکہ سوانح مصنفین کا بھی حافظ بھی بنا دیں لیکن جب تک اسے لنگڑے آم کی قلم نہیں لگے گی اُس وقت تک دیسی آم لنگڑا آم نہیں بنے گا۔ میرے شیخ شاہ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم نے جب میری اس مثال کو سنا تو ہنس کر فرمایا کہ دیسی آم لنگڑے آم کی صحبت اور قلم سے لنگڑا آم ہوتا ہے لیکن دیسی دل، غفلت کا مارا دل، حُبِّ جاہ اور دنیا کے مال کا مارا ہوا دل جب اللہ والوں کے دل سے پیوند کھاتا ہے تو لنگڑا دل نہیں بنتا، تگڑا دل بن جاتا ہے اور اس کے پاس جتنے بگڑے دل رہتے ہیں وہ بھی تگڑے دل بن جاتے ہیں۔
حضرت نے کیا عمدہ بات فرمائی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھیں کہ ہم اللہ والوں کے دل سے اپنا دل پیوند کریں گے تو کہیں ہمارا دل لنگڑا نہ ہوجائے۔ واہ رے شیخ! اس کو شیخ کہتے ہیں، فرمایا کہ اللہ والوں کے دل سے جب تمہارا دل پیوند ہوگا تو تگڑا دل بنے گا اور اتنا تگڑا ہوگا کہ سارا معاشرہ، سارا زمانہ آپ کو مرعوب نہیں کرسکتا ان شاءاللہ تعالیٰ اور آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صاحب ہم زمانہ کے ہاتھوں مجبور ہوگئے تھے بلکہ اللہ والوں کی صحبت کے بعد وہ ایمان، وہ یقین عطاہوگا کہ آپ اہل ِ زمانہ سے ببانگِ دُہل یہ اعلان کریں گے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
Alhamdulilah, Majalis (Bayanat) of Shaikh ul Arab wal Ajam Arif Billah Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (damat barkatuhum) are being conducted on daily basis, and many peoples within country and abroad are taking benefit.
Morning Majlis: 10am -> 11am
Isha Majlis: After Isha Namaz *
Monday Bayan: After Maghrib Namaz *
Juma Bayan: 1pm -> 2pm *
Khanqah Imdadia Ashrafia,
ST-1/A, Block 2, Gulshan-e-Iqbal, Karachi (Map)
(behind M.Rab Hospital)
Phone: +92.21.34981958
NOTE: Special (Pardah) arrangement for women is available on Sunday Morning Bayan, Friday Bayan and Monday Bayan
* Namaz timings at Masjid e Ashraf can be confirmed from 021.34975658, 021.34975758, 021.34981958
Monthly Al-Abrar of Safar 1431 / Feb 2010
Site Updates March 11th, 2010
The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Safar 1431 / Feb 2010 is published on website.
You can read it from this link.
نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
آپ خود بتائیں کہ جوان لڑکی کو پردے کی ضرورت ہے یا بڑھیا کھوسٹ کو جس کے گیارہ نمبر کا چشمہ لگا ہوا ہے، گال پچکے ہوئے ہیں، منہ میں دانت بھی نہیں ہیں، اس کو کون دیکھے گا؟ جس کو کوئی نہ دیکھے وہ تو پردے میں ہے اور جس کوسب دیکھیں وہ بے پردہ ہے، کیا حماقت کی بات ہے۔ بتائیے! جس کی جیب میں ایک پیسہ نہیں ہے وہ تو زپ (Zip)لگائے ہوئے ہے اور جیب پر ہاتھ بھی رکھے ہوئے ہے اور جس کی جیب میں نوٹوں کی گڈیاں ہیں وہ ململ کے باریک کرتے کی جیب سے اپنے نوٹوں کی نمائش کررہا ہے کہ اے جیب کترو! اے ڈاکوو! دیکھ لو یہ ہے مال۔
میرے شیخ ومرشد مولانا شاہ ابرار الحق صاحب فرماتے ہیں کہ تم آدھا کلو گوشت لے کر چلتے ہو تو تھیلے میں اندر رکھتے ہو تاکہ چیل اس کو اُڑا نہ لے جائے، گھر میں آدھا کلو دودھ رکھتے ہو تو ڈھک کے رکھتے ہو کہ بلی نہ پی جائے اور روٹیاں رکھتے ہو تو ڈھک کے رکھتے ہو کہ چوہے نہ کتر لیں۔ تو چوہوں سے روٹیوں کی حفاظت ضروری، بلی سے دودھ کی حفاظت ضروری، چیلوں سے گوشت کی حفاظت ضروری اور جیب کتروں سے نوٹوں کی حفاظت ضروری ہے تو کیا جوان بیٹیوں اور جوان بہووں کی حفاظت ضروری نہیں ہے؟
جو شخص اﷲ سے جتنا دور ہوگا اتنا ہی عقل سے محروم ہوگا کیونکہ عقل کا خالق اﷲ ہے جو اس مالک کو راضی کو رکھتا ہے تو اس کے دماغ میں جو عقل ہے اس کا کنکشن اور رابطہ خالقِ عقل سے رہتا ہے اور جو خدا کو بھولے ہوئے ہیں ان کی کھوپڑی عقل سے محروم ہے۔ لہٰذا دیکھ لو جتنی بڈھیاں ہیں وہ خود تو برقع میں ہیں اور اپنی جوان بیٹیوں کی نمائش کر تی ہوئی لے جارہی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ مشکوٰة شریف کی حدیث ہے، سرو رِ عالم صلی ا ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو لڑکیاں اور عورتیں بے پردہ نکلتی ہیں ان پر بھی اﷲ کی لعنت ہے:
لَعَنَ اﷲُ النَّاظِرَ وَالمَنظُورَ اِلَیہِ (مشکوٰة المصابیح، کتاب النکاح)
اﷲ لعنت کرے اس پر جو (حرام کو مثلاً نامحرم لڑکی یا امرد کو ) دیکھتا ہے اور جو اپنے کو دِکھاتا ہے یا دِکھاتی ہے یعنی منظور اور منظورات دونوں پر لعنت برستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو تو مار رہا ہے اوردوسری عورتوں سے دل لگا رہا ہے۔
یاد رکھو! اﷲکی نافرمانی کے ساتھ چین کا تصور کرنے والا بین الاقوامی گدھا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَمَن اَعرَضَ عَن ذِکرِی فِاِنَّ لَہ مَعِیشَةً ضَنکاً (سورة طٰہ،آیت: ۴۲۱)
جو میری نافرمانی کرتا ہے اس کی زندگی تلخ کردی جاتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس حقیقت پر ایمان لانے کی توفیق دے اور مالک کو ناراض کر کے حرام لذتوں کی چوریوں اور کمینے پن سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
Monthly Al-Abrar of Muharram 1431 / January 2010
Site Updates January 22nd, 2010
The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Muharram 1431 / January 2010 is published on website.
You can read it from this link.
بکھرتے موتی - ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
غصہ کا علاج
جدہ سے میرے پاس ایک خط آیا کہ میری بیوی میں، میرے بچوں میں، سارے خاندان میں غصہ بہت ہے، غصہ کا یہ مرض ایک عذاب بنا ہوا ہے۔ میں نے ان کو لکھا کہ جب دسترخوان بچھاو تو سب لوگ مل کر کھاو اور کھانے پر سات مرتبہ بِسمِ اﷲِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِپڑھ کر دم کرو اور دم کرتے وقت تھوڑا ساتھوک بھی گر جائے مگر ذرّہ کے برابر یہ نہیں کہ ایک تولہ تھوک دیا۔ ملا علی قاری مشکوٰة کی شرح مرقاة میں لکھتے ہیں:
خُرُوجُ البُزَاقِ مِنَ الفَمِ
بزاق کے معنیٰ ہیں کہ تھوک کے تھوڑے سے ذرات گرجائیں۔ تو انہوں نے اس پر عمل کیا، ایک مہینے کے بعد خط لکھا کہ اﷲ کے رحمن اور رحیم نام کے صدقہ میں ہم سب پر شانِ رحمت آگئی، ہمارے غصے ختم ہوگئے اور ہم معتدل مزاج کے ہوگئے۔ اس لیے اپنے دوستوں سے کہتا ہوںکہ کسی بزرگ سے مشورہ کرلو، آج ہم نے بزرگوں سے، اﷲ والوں سے تعلق چھوڑ دیا، اپنا علاج خود ہی کرنے لگے، روحانی بیماری کا کوئی مرض ایسا نہیں جو اچھا نہ ہوسکے، پوچھ کر عمل کرکے دیکھو۔
پُرسکون زندگی حاصل کرنے کا طریقہ
بعض لوگ اپنے ماں باپ کو ستاتے ہیں، اپنے شیخ کو ستا تے ہیں، اپنی بیویوںکو ستا تے ہیں، اپنے بچوں کی بے جا پٹائی کر تے ہیں، گلاس گرگیا تو مار مار کر ہڈی توڑ دی اور بچہ کو ہسپتا ل میں داخل کرنا پڑا جبکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جیسے تمہاری زندگی ہے برتنوں کی بھی زندگی ہے، ان کی بھی موت لکھی ہوتی ہے جس دن گرنا ہے گر کررہے گا، اس لیے ذرا نرمی سے تنبیہ کردو کہ مضبوط ہاتھوں سے برتن پکڑو، یہ نہیں کہ مار، پٹائی اور ظلم و تشدد شروع کردیا، یہ اسی کا عذاب ہے کہ آج ہم سکون سے نہیں ہیں۔
Monthly Publication - Fughan e Akhtar
Site Updates January 2nd, 2010
Monthly Alabrar of ZulHijjah 1430 / December 2009
Site Updates December 27th, 2009
The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month ZulHijjah 1430 / December 2009 is published on website.
You can read it from this link.
بکھرتے موتی - ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
یعنی نیک بندے جنت میں جائیں گے اور نافرمان جہنم میں جائیں گے توہمیں ابرار بننا چاہیے یا نہیں؟ لیکن ابرار کون لوگ ہیں؟ خواجہ حسن بصری رحمة اﷲ علیہ ابرار کی تفسیر کرتے ہیں کہ ابرار کون بندے ہیں؟
قَالَ الحَسَنُ البَصَرِی فِی تَفسِیرِ الاَبرَارِاَلَّذِینَ لاَ یُوذُونَ الذَّرَّ
ابرار وہ ہیں جو چیونٹی کوبھی تکلیف نہ دیں، سن لو اس کو، بعض لوگ بے خیالی میں چیونٹیوںپر پیر رکھے چلے جاتے ہیں۔ سعدی شیرازی رحمة اﷲعلیہ نے فرمایا کہ جب کوئی چیونٹی پر پیر رکھتا ہے تو چیونٹی کا وہی حال ہوتا ہے جیسے انسان پر ہاتھی پیر رکھ دے۔ پس اگر ابرار بننا ہے تو بیوی بچوں اور ماں اور باپ کو ستانا تو بہت بڑی بات ہے چیونٹیوں کو بھی تکلیف نہ دو: اَلَّذِینَ لاَ یُوذُونَ الذَّرَّّ وَلاَ یَرضَونَ الشَّرَّ
(عمدة القاری،کتاب مواقیت الصلٰوة، ج:۱،ص:۳۲۱، داراحیاءالتراث العربی)
New Bayan: Allah Taala se Ghafil na Rahoo
Love of Allah, Site Updates, Tasawwuf November 22nd, 2009
Hazrat Wala’s Nisbat e Ehsani & Dard e Dil
On Friday 10am, Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (db) delivered a 25 minute Bayan at Khanqah Imdadia Ashrafiya, Karachi. Every word of Hazrat Wala Db was full of the Love of Allah (SWT) and gave us a glimpse of Hazrat Wala’s Nisbat e Ehsani & Dard e Dil.
Everyone present on this occassion was amazed by the effect of Hazrat Wala’s Bayan and felt extreme love of Allah (SWT) in every word of Hazrat Wala’s Bayan.
Hazratwala (db) later added, listen this bayan atleast 3 times.
>> Pehli dafa main safai hogi, Dosri dafa main ragrai hogi, aur Teesri dafa main chamka diya jaye ga.


