tasweer-1tasweer-2

Source: Adaab e Ishq e Rasool (S.A.W)
By: Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (db)

http://www.khanqah.org/books/show/adaab-e-ishq-e-rasool-saw#9

    یہ بتائیے کہ اگر آپ کا ایک ٹوٹا ہوا جھونپڑا ہے جس میں لیٹرین بھی نہیں ہے، گندگی سے بھرا ہوا ہے اور کوئی کریم اور مہربان بادشاہ کہتا ہے کہ اگر تم اپنے اس مکان کو ڈھا دو تو ہم تمہیں ایک نئی شاندار عمارت بنا کردیں گے یاسعودی حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ ہم مسجدِ نبوی کے قریب کے مکانات ڈھانا چاہتے ہیں اور مسجدِ نبوی کی توسیع کرنا چاہتے ہیں اور اگر تمہارا مکان ایک لاکھ کا ہے تو ہم تم کو پچاس لاکھ دیں گے تو آپ لوگ تمنا کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ مسجدِ نبوی کی توسیع کے لیے ہمارا مکان حکومت کی نظر میں آجائے تاکہ ایک لاکھ کے پچاس لاکھ ملیں تو اللہ تعالیٰ نے ہماری خواہشات کے مکانوں کو گرانے کا جو حکم دیا ہے کہ جو بری بری خواہشات اور گندے گندے تقاضے ہیں مثلاً عورتوں کو دیکھنے کے، لڑکوں کو دیکھنے کے، عشقِ مجازی کے، جھوٹ بولنے کے، بے جا غصہ کے، ان خبیث مادّوں کو اگر تم گرا دو یعنی دل میں بری خواہشات کے مکان کو ڈھا دو تو اس سے کچھ دن کے لیے تو تمہیں ایسا محسوس ہوگا کہ دل ویران ہوگیا لیکن میں اس ویرانی میں اپنی محبت کا اور نسبت مع اللہ کا خزانہ رکھ دوں گا

    یہ صحنِ چمن، یہ لالہ و گل ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں

    تخریبِ جنوں کے پردے میں تعمیر کے ساماں ہوتے ہیں

    read more at http://alabrar.khanqah.org/102.html

      The edition of Monthly Alabrar (Urdu) for the month Zeqa’ed 1430 / November 2009 is published on website.

      You can read it from this link.

      ماہنامہ الابرار – ذی قعدہ ۱۴۳۰ بمطابق اکتوبر/نومبر ۲۰۰۹ کا شمارہ ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے

      سرپرست: حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
      خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان

      بکھرتے موتی – ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
      ………

      کامل ایمان والا کون ہے؟

      ارشاد فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے کہ سب سے کامل ایمان اُس شخص کا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں جبکہ ہمارے ذہنوں میں یہ ہے کہ جو زیادہ عبادت کرتا ہے، زیادہ حج اور عمرہ کرتا ہے، زیادہ تسبیح وظیفے پڑھتا ہے اس کا ایمان کامل ہے مگر سرورِ عالم صلی اﷲعلیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ جس کے اخلاق اچھے ہوتے ہیں اس کا ایمان سب سے زیادہ اعلیٰ اوراکمل ہوتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق نہ ہونے کی وجہ سے کم گھرانے ہیں جو سکون سے رہتے ہیں ورنہ کہیں شوہر کی طرف سے زیادتی ہے تو کہیں بیگم کی طرف سے زیادتی ہے جو شوہر کو بے غم نہیں رکھتی، اس کا نام تو بیگم ہے مگراپنے شوہر کو بے غم رکھنا نہیں جانتی۔ اس لیے آج آپ جو کچھ سنیں وہ اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور بیویوں کو بھی سنائیں —  مزید پڑھئے

        ایک مرتبہ صحابہ کرام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جنگل سے گذر رہے تھے کہ پانی کا تالاب نظر آیا، حضرت عمر نے فرمایا یہ پانی پاک ہے، اس سے وضو وغیرہ کرلو، صحابہ نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین یہاں بھڑئیے، کتے وغیرہ پانی پیتے ہوںگے، تو فرمایا کیا تم نے انہیں پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے؟ ہر چیز کو پاک سمجھو جب تک اس کی ناپاکی یقینی نہ معلوم ہوجائے۔ ایسے ہی بعض لوگوں کو ہر وقت وضو کاشبہ رہتا ہے تو فقہاءنے لکھاہے کہ جب تک قسم نہ کھالو کہ خداکی قسم میرا وضو ٹوٹ گیاتب سمجھو کہ ٹوٹا ہے ورنہ شک و شبہ ہے اور محض شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، وضو تو یقینی کیا اور یقین شک سے نہیں ٹوٹتا، لوہے کو لوہا کاٹے گا، جب اتنا یقین ہوجائے کہ قسم کھالو کہ خدا کی قسم میرا وضو نہیں رہا، اب بے شک وضو کرو، ورنہ شیطان وسوسہ ڈالتا رہے گا۔ ایسے ہی بعض لوگوں کو شیخ کے بارے میں وسوسہ ہوتا ہے کہ شیخ آج کل ناراض ہے، تو میرے شیخ نے مجھے لکھا کہ جب تک قسم نہ کھا سکوکہ خدا کی قسم شیخ ناراض ہے تب تک سمجھو کہ شیخ راضی ہے۔

        http://alabrar.khanqah.org/43.html

          ارشاد فرمایا کہ آج ایک حدیث کا درس دیتا ہوں، جس کی آئے دن ہم کو ضرور ت پڑتی ہے۔ بعض دفعہ کسی کام کے بارے میں ترَدُّد ہوتا ہے کہ یہ کام کریں یا نہ کریں، حدیث پاک میں ہے ایسے وقت میں استخارہ کرلو، استخارے کا ایک بڑا نفع یہ ہے کہ تَرَدُّدُ بَینَ الاَمرَینِ سے نجات مل جاتی ہے، یعنی دوچیز کا تردد ہوتو ایک چیز دل میں جم جائے گی، لیکن بعض وقت استخارے کے لیے دو رکعت پڑھنے کا وقت نہیں ہوتااور فیصلہ جلدی کرنا ہوتا ہے، تو حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ہمارے دادا پیر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ایک مختصر استخارہ عطا فرمایا گیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی جب جلدی فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو میں بھی اس پر عمل کرتا ہوں وہ یہ ہے:

          اَللّٰھُمَّ خِر لِی وَ اختَر لِی
          (سننُ الترمذی، کتابُ الدعوات)

          یعنی اے اللہ! آپ کے علم میں میرے لےے جو کام خیر ہو وہ آپ میرے دل میں ڈال دیجےے۔ اسے سات دفعہ پڑھ لیں۔ جب کوئی فیصلہ جلدی کر نا ہو اور دو رکعت نمازِ استخارہ پڑھنے کے لیے وقت نہ ہو یا کسی کو بے حد ضعف ہے، بیماری ہے، کمزوری محسوس ہورہی ہے، دورکعات پڑھنے اور پھر دعا مانگنے کا وقت نہ ہو تو اس مختصر استخارہ کو پڑھ لے، کوئی کام دماغ میں ہو تو چلتے پھرتے بھی اس کو پڑھ سکتے ہیں۔ استخارہ کے یہ الفاظ حدیث سے ثابت ہیں، جو دعا زبانِ نبوت سے نکلی ہو اس کی قبولیت میں کیاشک ہے۔ ایک بڑے پیارے نے بڑے پیارے کی زبان سے جو دعا اپنے بندوں کو سکھائی وہ کتنی پیاری ہوگی۔
          اور استخارہ محتاجِ اشارہ نہیں ہے، نہ کوئی رنگ نظر آنا ضروری ہے، نہ کوئی خواب دیکھنا ضروری ہے، نہ دل میں کوئی آواز آنا ضروری ہے، جو خیر ہوگا وہ دل میں جم جائے گا، آپ اس کے خلاف کرہی نہیں سکتے، آپ مجبور و مقید ہوجائےں گے، مجبورِ خیر ہوجائےں گے۔ یہ ہے اصل چیز۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی خواب تو نظر آیا نہیں، نہ کوئی آواز آئی، نہ کوئی ہرا بھرا رنگ نظر آیا، نہ باغات وغیرہ نظر آئے بلکہ اگر بلی یا اُلو وغیرہ نظر آگیا تو سمجھتے ہیں کہ یہ خطر ناک بات ہے، اُلو اور بلی سے استخارہ مت نکالو مثلاً اگر بیٹی کے لیے کوئی اچھا رشتہ آتاہے اور اس میں خوبیاں ہیں، دیندار ہے ،روزی ہے، مکان ہے، سب کچھ دے سکتا ہے، اخلاق بھی اچھے ہیں تو اِستشارہ اور استخارہ دونوں کام کرو، دونوں کام ضروری ہیں، استخارہ بھی کرو اور مشورہ بھی کرو اور مشورہ کے بعد پھر ظاہری حالات جیسے ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرو، استخارہ برکت کے لیے کریں، کچھ نظر آئے یا نہ آئے ان شاءاللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ دل اس طرف کردیں گے جس میں خیر ہوگی، اور یہ دعا بھی مانگ لو کہ اے اللہ! آپ کے علم میں ہمارے لیے جو خیر ہو وہی ہمارے دل میں جمادیجئے۔

            Muarif Rabbaniشیخ العرب و العجم عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے سارے عالم میں اللہ تعالی کی محبت کو پھیلانے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا اور امت مسلماں کو اللہ تعالی کی محبت سے لبریز دل نشیں انداز بیاں سے سیراب کیا اور کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ اللہ تعالی حضرت والا کو کامل صحت و عافیت کے ساتھ ۱۳۰ برس کی حیات مبارکہ عطاء فرمائیں اور ہم سب کو حضرت والا کی قدر کرنے اور فیض یاب ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ امین۔۔۔۔۔۔۔

            ” معارف ربانی ” حضرت والا کے ۱۹۹۳ء میں فرانس کے جزیرے ” ری یونین ” کے تیسرے سفر کے ملفوظات کا مجموعہ ہے۔  حضرت والا کے خلیفہ ارو خادم خاص جناب سید عشرت جمیل میر صاحب مدظلہ کی کاوش سے شائع ہوگیا ہے ۔۔۔۔ میر صاحب جو اس سفر ساتھ تھے فرمایا ہے اس مجموعہ میں اللہ تعالی کی محبت اور قران و حدیث کے علوم و معارف کی آگ بھری ہوئی ہے۔ ری یونین کے بڑے بڑے علماء اور مشائیخ سب حیرت میں تھے۔

            آن لائن پڑھیں | ڈاون لوڈ کریں

            Sample Contents