گھر میں تصویر لگانے کی حرمت
عقائد, اردو March 9th, 2010


Source: Adaab e Ishq e Rasool (S.A.W)
By: Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (db)
http://www.khanqah.org/books/show/adaab-e-ishq-e-rasool-saw#9
حرام خواہشات کے انہدام سے نسبت مع اﷲ کی تعمیر ہوتی ہے
اولیاء اللہ, اردو December 14th, 2009
یہ بتائیے کہ اگر آپ کا ایک ٹوٹا ہوا جھونپڑا ہے جس میں لیٹرین بھی نہیں ہے، گندگی سے بھرا ہوا ہے اور کوئی کریم اور مہربان بادشاہ کہتا ہے کہ اگر تم اپنے اس مکان کو ڈھا دو تو ہم تمہیں ایک نئی شاندار عمارت بنا کردیں گے یاسعودی حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ ہم مسجدِ نبوی کے قریب کے مکانات ڈھانا چاہتے ہیں اور مسجدِ نبوی کی توسیع کرنا چاہتے ہیں اور اگر تمہارا مکان ایک لاکھ کا ہے تو ہم تم کو پچاس لاکھ دیں گے تو آپ لوگ تمنا کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں کہ مسجدِ نبوی کی توسیع کے لیے ہمارا مکان حکومت کی نظر میں آجائے تاکہ ایک لاکھ کے پچاس لاکھ ملیں تو اللہ تعالیٰ نے ہماری خواہشات کے مکانوں کو گرانے کا جو حکم دیا ہے کہ جو بری بری خواہشات اور گندے گندے تقاضے ہیں مثلاً عورتوں کو دیکھنے کے، لڑکوں کو دیکھنے کے، عشقِ مجازی کے، جھوٹ بولنے کے، بے جا غصہ کے، ان خبیث مادّوں کو اگر تم گرا دو یعنی دل میں بری خواہشات کے مکان کو ڈھا دو تو اس سے کچھ دن کے لیے تو تمہیں ایسا محسوس ہوگا کہ دل ویران ہوگیا لیکن میں اس ویرانی میں اپنی محبت کا اور نسبت مع اللہ کا خزانہ رکھ دوں گا
یہ صحنِ چمن، یہ لالہ و گل ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں
تخریبِ جنوں کے پردے میں تعمیر کے ساماں ہوتے ہیں
read more at http://alabrar.khanqah.org/102.html
قربانی کے شرعی مسائل اورجوابات
شرعی مسائل November 24th, 2009
مسائل اورجوابات - شرعی مسائل کے جوابات - ماہنامہ الابرار - شمارہ: ذی قعدہ ۱۴۳۰ بمطابق اکتوبر/نومبر ۲۰۰۹
جامعہ اشرف المدارس کراچی
سوال: قربانی کس پر واجب ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ قربانی کے جانور کی قیمت کسی غریب کو دے دی جائے، یا قربانی کرنا ضروری ہے۔
جواب: جس عاقل، بالغ، آزاد، مقیم مسلمان کی ملک میں ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اتنی قیمت کی کوئی اور چیز حاجت اصلیہ سے زائد سے ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔ قربانی کے ایام میں قربانی کرنا ہی واجب ہے، قربانی کی قیمت دینا کافی نہیں۔ اگر کسی عارض کی وجہ سے قربانی نہیں کرسکا اور دن گزر گئے تو پھر قیمت کا صدقہ کرنا ضروری ہے۔
سوال: ایک شخص کے پاس قربانی کے ایام میں بقدر نصاب یا اس سے زیادہ مال ہے مگر اس پر ابھی تک سال نہیں گزرا، کیا اس پر قربانی واجب ہے؟
جواب: مذکورہ شخص پر قربانی واجب ہے، بشرطیکہ مال حوائج اصلیہ سے زائد ہو، اس مال پر سال گزرنا شرط نہیں۔
سوال: قربانی کا جانور کس کے نام سے ذبح کیا جائے؟ کیا زندہ مردہ جس کے نام سے بھی ذبح کردیا جائے، اہل خانہ کے ذمہ سے اس کا وجوب ساقط ہوجائے گا، یا ہر سال گھر کا مالک اپنے نام سے کردے؟
جواب: جس ذمہ قربانی واجب ہے پہلے وہ اپنی طرف سے قربانی کرے، اس کے بعد حسبِ توفیق کسی زندہ یا مردہ کی طرف سے کردے۔ یہ سمجھنا کہ ایک بکرا قربانی کردینے سے تمام اہل خانہ کا واجب ادا ہوجائے گا درست نہیں۔
سوال: قربانی کرنے کا وقت کیا ہے۔
جواب: قربانی کے وقت ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کی صبح سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے۔ بارہویں تاریخ کی شام یعنی سورج غروب ہونے کے بعد قربانی درست نہیں۔ تاہم افضیلت میں دسویں تاریخ مقدم ہے پھر گیارہویں پھر بارہویں ۔ دیہات میں جہاں نماز جمعہ وعیدین کی شرائط نہیں پائی تیں نماز عید سے پہلے بھی قربانی درست ہے لیکن شہری آدمی نماز عید کے بعد قربانی کرے گا۔
سوال: جانوروں میں سے کن کن کی قربانی کرنا جائز ہے؟ اور ان کی عمریں کیا کیا ہونی چاہئیں؟
جواب: مندرجہ ذیل تین قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے۔
(۱)…. بکرا، بکری، مینڈھا، بھیڑ، دنبہ۔
(۲)…. گائے، بھینس (نر مادہ)
(۳)…. اونٹ (نرمادہ)
قربانی کے لیے مذکورہ جانوروں کی عمریں بھی متعین ہیں جن کی تفصیل یہ ہے کہ: (ب(۱) بکرا، بکری، کم از کم ایک سال کے ہوں، لیکن بھیڑ، دنبہ اگر چھ مہینے سے زیادہ اور ایک سال سے کم ہو مگر اتنا موٹا تازہ اور فربہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ (۲) گائے، بھینس (نر و مادہ) کم از کم دو سال کے ہوں۔ (۳)اونٹ (خواہ نر ہو یا مادہ) کم ازکم پانچ سال کا ہو۔
سوال: جانور کے اندر اگر کوئی عیب ہو مثلاً اس کا کان یا اس کی دم وغیرہ کٹ گئی ہو تو کس قدر عیب ہو تو قربانی نہیں ہوتی۔
جواب: جانور اگر اندھا ہو، یا ایک آنکھ کی تہائی یا اس سے زائد بینائی جاتی رہی ہو تو قربانی درست نہیں۔ (۲)کان ایک تہائی یا اس سے زائد کٹ گیا، اسی طرح دم ایک تہائی یا اس سے زائد کٹ گئی تو قربانی درست نہیں۔ (۳) جانور ایک پاﺅں سے لنگڑا ہو تو اگر اس پاﺅں کا بالکل سہارا نہیں لیتا تو قربانی درست نہیں، اگر اس پاﺅں کا سہارا لیتا ہے لیکن لنگڑا کر چلتا ہے تو قربانی درست ہے۔ (۴) اگر اتنا کمزور جانور ہے کہ ہڈیوں کا گودا ختم ہوگیا ہے تو قربانی درست نہیں۔ (۵) اگر جانور کے تمام دانت گرگئے ہوں تو قربانی درست نہیں، اور اگر کچھ دانت گرے ہیں تو قربانی درست ہے۔
سوال: گائے، بھینس، اونٹ میں ساتواں حصہ لے کر قربانی کرنا بہتر ہے یا بکرے، مینڈھے وغیرہ کی قربانی بہتر ہے۔
جواب: مستقل بکرے کی قربانی افضل ہے جبکہ اس کی قیمت گائے وغیرہ کے ساتویں حصہ کے برابر ہو، یا زیادہ ہو۔
سوال: صاحب نصاب مسلمان کے لیے قربانی اونٹ، بھینس، گائے، دنبہ، بکرا یا بھیڑ میں یا ان کے نر و مادہ میں ثواب کا کچھ فرق ہے، یا سب کی قربانی یکساں جائز ہے؟ کہ ان میں سے کسی جانور کی قربانی کرے، ثواب یا ادائے قربانی میں کچھ کوئی فرق نقص یا حرج نہ ہوگا۔
جواب: جس جانور کی قربانی محض ایک آدمی کی طرف سے ادا ہوتی ہے اور اس میں شرکت نہیں ہوتی، اس کی قربانی افضل ہے بشرطیکہ اس کا گوشت اور قیمت شرکت کرنے والے جانور سے گھٹیا اور کم نہ ہو، ورنہ شرکت والے جانور کا ساتواں حصہ افضل ہوگا۔ بکرا، دنبہ وغیرہ اگر خصی ہو تو وہ مادہ سے افضل ہے ورنہ مادہ افضل ہے۔ قربانی ادا بہرصورت ہوجاتی ہے۔
سوال: قربانی کے گوشت کے بارے میں کیا شرعی ہدایات ہیں؟
جواب: بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کئے جائیں۔ ان میں سے ایک حصہ غرباءکے لیے، ایک حصہ عزیز و اقارب کے لیے اور ایک حصہ اپنے لیے، لیکن اگر کوئی شخص اہل و عیال کی کثرت کی وجہ سے اپنے لیے ایک تہائی سے زائد بھی رکھے تو بھی جائز ہے۔ گوشت غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ قصاب کی اجرت میں گوشت دینا درست نہیں، قصاب کی اجرت علیحدہ سے طے کرنی چاہیے۔
سوال: قربانی کی کھال کس کو دینی چاہیے۔
جواب: قربانی کی کھال امیر فقیر سب کو دینی جائز ہے، اس کے لیے فقیر ہونا شرط نہیں، لیکن اگر کھال فروخت کردی جائے تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا یعنی غریب کو دینا واجب ہے۔ تاہم مدارس دینیہ کو کھال دینا علم دین کی نشرواشاعت میں تعاون کرنا زیادہ افضل ہے۔ قربانی کی کھال کو اپنے کام میں لانا یعنی ڈول وغیرہ بنانا بھی جائز ہے، مگر کھال یا اس کی قیمت کو کسی کی اجرت میں دینا درست نہیں۔
سوال: تکبیرات تشریق کسے کہتے ہیں اور ان کے کیا احکام ہیں؟
جواب: نویں ذی الحجہ کی نماز فجر سے لے کر تیرہویں ذی الحجہ کی نماز عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ، اﷲ اکبر، اﷲ اکبرلا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد، پڑھنے کو تکبیر تشریق کہتے ہیں اور یہ عمل تمام نمازی مقیم ، مسافر، مرد اور عورت، مقتدی اور مفرد سب پر واجب ہے۔ مرد حضرات بلند آواز سے اور عورتیں آہستہ آواز سے پڑھیں گی۔ اگر امام صاحب بھول جائیں تو مقتدی تکبیرات تشریق شروع کردیں، امام صاحب کا انتظار نہ کریں۔
—
اپنے شرعی مسائل کے فتاویٰ کے لیے دارالافتاءجامعہ اشرف المدارس، گلستان جوہر، فون نمبر 0321.3896940 پر رابطہ کرکے رئیس دارالافتاءجناب مفتی محمد نعیم صاحب سے رجوع کیا جائے جن کا موبائل نمبر 0333.2375446 ہے۔
ماہنامہ الابرار - ذی قعدہ ۱۴۳۰ بمطابق نومبر ۲۰۰۹ کا شمارہ
Site Updates, اردو, نِئے مضامین November 21st, 2009
ماہنامہ الابرار - ذی قعدہ ۱۴۳۰ بمطابق اکتوبر/نومبر ۲۰۰۹ کا شمارہ ویب سائٹ پر شائع ہو چکا ہے
سرپرست: حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان
بکھرتے موتی - ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
………
کامل ایمان والا کون ہے؟
ارشاد فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے کہ سب سے کامل ایمان اُس شخص کا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں جبکہ ہمارے ذہنوں میں یہ ہے کہ جو زیادہ عبادت کرتا ہے، زیادہ حج اور عمرہ کرتا ہے، زیادہ تسبیح وظیفے پڑھتا ہے اس کا ایمان کامل ہے مگر سرورِ عالم صلی اﷲعلیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ جس کے اخلاق اچھے ہوتے ہیں اس کا ایمان سب سے زیادہ اعلیٰ اوراکمل ہوتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق نہ ہونے کی وجہ سے کم گھرانے ہیں جو سکون سے رہتے ہیں ورنہ کہیں شوہر کی طرف سے زیادتی ہے تو کہیں بیگم کی طرف سے زیادتی ہے جو شوہر کو بے غم نہیں رکھتی، اس کا نام تو بیگم ہے مگراپنے شوہر کو بے غم رکھنا نہیں جانتی۔ اس لیے آج آپ جو کچھ سنیں وہ اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور بیویوں کو بھی سنائیں — مزید پڑھئے
شک سے یقین زائل نہیں ہوتا
مختصر باتیں, روحانی بیماریاں, اردو November 9th, 2009
ایک مرتبہ صحابہ کرام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جنگل سے گذر رہے تھے کہ پانی کا تالاب نظر آیا، حضرت عمر نے فرمایا یہ پانی پاک ہے، اس سے وضو وغیرہ کرلو، صحابہ نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین یہاں بھڑئیے، کتے وغیرہ پانی پیتے ہوںگے، تو فرمایا کیا تم نے انہیں پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے؟ ہر چیز کو پاک سمجھو جب تک اس کی ناپاکی یقینی نہ معلوم ہوجائے۔ ایسے ہی بعض لوگوں کو ہر وقت وضو کاشبہ رہتا ہے تو فقہاءنے لکھاہے کہ جب تک قسم نہ کھالو کہ خداکی قسم میرا وضو ٹوٹ گیاتب سمجھو کہ ٹوٹا ہے ورنہ شک و شبہ ہے اور محض شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، وضو تو یقینی کیا اور یقین شک سے نہیں ٹوٹتا، لوہے کو لوہا کاٹے گا، جب اتنا یقین ہوجائے کہ قسم کھالو کہ خدا کی قسم میرا وضو نہیں رہا، اب بے شک وضو کرو، ورنہ شیطان وسوسہ ڈالتا رہے گا۔ ایسے ہی بعض لوگوں کو شیخ کے بارے میں وسوسہ ہوتا ہے کہ شیخ آج کل ناراض ہے، تو میرے شیخ نے مجھے لکھا کہ جب تک قسم نہ کھا سکوکہ خدا کی قسم شیخ ناراض ہے تب تک سمجھو کہ شیخ راضی ہے۔
ایک مختصر اِستخارہ
عقائد, اردو October 25th, 2009
ارشاد فرمایا کہ آج ایک حدیث کا درس دیتا ہوں، جس کی آئے دن ہم کو ضرور ت پڑتی ہے۔ بعض دفعہ کسی کام کے بارے میں ترَدُّد ہوتا ہے کہ یہ کام کریں یا نہ کریں، حدیث پاک میں ہے ایسے وقت میں استخارہ کرلو، استخارے کا ایک بڑا نفع یہ ہے کہ تَرَدُّدُ بَینَ الاَمرَینِ سے نجات مل جاتی ہے، یعنی دوچیز کا تردد ہوتو ایک چیز دل میں جم جائے گی، لیکن بعض وقت استخارے کے لیے دو رکعت پڑھنے کا وقت نہیں ہوتااور فیصلہ جلدی کرنا ہوتا ہے، تو حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ہمارے دادا پیر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ایک مختصر استخارہ عطا فرمایا گیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی جب جلدی فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو میں بھی اس پر عمل کرتا ہوں وہ یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ خِر لِی وَ اختَر لِی
(سننُ الترمذی، کتابُ الدعوات)
یعنی اے اللہ! آپ کے علم میں میرے لےے جو کام خیر ہو وہ آپ میرے دل میں ڈال دیجےے۔ اسے سات دفعہ پڑھ لیں۔ جب کوئی فیصلہ جلدی کر نا ہو اور دو رکعت نمازِ استخارہ پڑھنے کے لیے وقت نہ ہو یا کسی کو بے حد ضعف ہے، بیماری ہے، کمزوری محسوس ہورہی ہے، دورکعات پڑھنے اور پھر دعا مانگنے کا وقت نہ ہو تو اس مختصر استخارہ کو پڑھ لے، کوئی کام دماغ میں ہو تو چلتے پھرتے بھی اس کو پڑھ سکتے ہیں۔ استخارہ کے یہ الفاظ حدیث سے ثابت ہیں، جو دعا زبانِ نبوت سے نکلی ہو اس کی قبولیت میں کیاشک ہے۔ ایک بڑے پیارے نے بڑے پیارے کی زبان سے جو دعا اپنے بندوں کو سکھائی وہ کتنی پیاری ہوگی۔
اور استخارہ محتاجِ اشارہ نہیں ہے، نہ کوئی رنگ نظر آنا ضروری ہے، نہ کوئی خواب دیکھنا ضروری ہے، نہ دل میں کوئی آواز آنا ضروری ہے، جو خیر ہوگا وہ دل میں جم جائے گا، آپ اس کے خلاف کرہی نہیں سکتے، آپ مجبور و مقید ہوجائےں گے، مجبورِ خیر ہوجائےں گے۔ یہ ہے اصل چیز۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی خواب تو نظر آیا نہیں، نہ کوئی آواز آئی، نہ کوئی ہرا بھرا رنگ نظر آیا، نہ باغات وغیرہ نظر آئے بلکہ اگر بلی یا اُلو وغیرہ نظر آگیا تو سمجھتے ہیں کہ یہ خطر ناک بات ہے، اُلو اور بلی سے استخارہ مت نکالو مثلاً اگر بیٹی کے لیے کوئی اچھا رشتہ آتاہے اور اس میں خوبیاں ہیں، دیندار ہے ،روزی ہے، مکان ہے، سب کچھ دے سکتا ہے، اخلاق بھی اچھے ہیں تو اِستشارہ اور استخارہ دونوں کام کرو، دونوں کام ضروری ہیں، استخارہ بھی کرو اور مشورہ بھی کرو اور مشورہ کے بعد پھر ظاہری حالات جیسے ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرو، استخارہ برکت کے لیے کریں، کچھ نظر آئے یا نہ آئے ان شاءاللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ دل اس طرف کردیں گے جس میں خیر ہوگی، اور یہ دعا بھی مانگ لو کہ اے اللہ! آپ کے علم میں ہمارے لیے جو خیر ہو وہی ہمارے دل میں جمادیجئے۔



